کیا ناسا کو خلاء میں ملنے والی دیوار یاجوج ماجوج Gog Mog کی دیوار ہے؟

سائنس
20 جولائی 2021 | 46 : 6 - شام

دوستو سفرذولقرنین(Safr e Zulqarnain) ایک ایسا موضوع ہے جس پر علماء کرام کی رائے ہے کہ وہ ہمارازمینی سفر تھاجبکہ انٹیلیکچول دینی علم اور سائنس کو گہرائی سے سمجھنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ وہ سفر دنیاوی نہیں بلکہ خلائی سفر تھااور میں بھی اسی بات سے متفق ہوں کہ وہ سفر ایک خلائی سفر تھا ۔
آج میں آپ کو اس سفر سے متعلق قرآنی دلائل کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کروں گا جسے سمجھنے کے بعد آپ حیرت کی سمند ر میں گم ہو جائو گئے۔
دوستو اس بات میں کوئی حیرانی اور تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ کے برگزیدہ بندے خلا کا سفر نہیں کرسکتے
بلکہ ہمارے پیارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر معراج اس کی بہترین مثال ہے۔
(ترجمہ)Surah Al-Kahf کی ان آیات مبارکہ میں اللہ نے ذولقرنین کو ہر طرح کا ساز و سامان عطا کیاجس سے خلائی سفر کیا جاتا ہے۔ یعنی وہ ٹیکنالوجی عطا کی جس سے وہ خلائی سفر کر سکے پھر آگے فرمایا کہ وہ ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں سورج غروب ہوتا ہے۔
علماء کرام یہ بتاتے ہیں کہ وہ دراصل بلیک سی کے کنارے پر پہنچے جس وقت سورج ڈوبتا ہوا نظر آ رہا تھا آپ بھی اس بات کو جانتے اور سمجھتے ہیںکہ سورج ڈوبتا ہوا دکھتا ہے ارتھ کے روٹیٹ ہونے کی وجہ سے لیکن حقیقت میں وہ اپنی جگہ پر ہی رہتا ہے آپ دوبارہ آیت مبارکہ پہ غور کریںاللہ نے فرمایا سورج کے غروب ہونے کے مقام پر پہنچا مقام یعنی جگہ اب آپ غور کرنا اس بات پرکہ ایسے پایا جیسے کیچڑ والے چشمے میں ڈوب رہا ہے یعنی اللہ نے مثال دے کے سمجھایا۔ ایسا کیوں؟ تو آپ کو آج پتا ہی ہوگا کہ سورج یعنی ستارہ بلیک ہول کی گریوٹیشنل فورس کی وجہ سے اس میں گر کر یعنی ڈوب کر ختم ہو جاتا ہے یا پھر خود بلیک ہول بن جاتا ہے۔
تو اس زمانے میں اگر اللہ بلیک ہول کے بارے میں بتاتےتو شاید انسان سمجھ نہیں پاتااسی لیے اللہ نے بلیک ہول کو ایک مثال کے ذریعے سمجھایا میں آپ کو یہ بات ایک اور آیت کے ذریعے سمجھاتا ہوںاللہ نے سورہ واقعہ میں تاروں کی منزلوں کی قسم کھائی (ترجمہ)جس کو میں نے اپنی پچھلی تحریر میںبہت ڈیٹیل سے ایکسپلین کیا ہے اگر آپ نے وہ تحریر نہیںپڑھی تو اس کے بعد وہ ضرورپڑھیے گا آپ کو یہ بات اور اچھے طریقے سے سمجھ آ جائے گی اب آپ سمجھ گئے ہوں گےکہ ذولقرنین دراصل بلیک ہول کے قریب کسی پلینٹ پر پہنچے تھے جہاں ایک اور قوم رہتی تھی تو اس آیت سے ایلین لائف کی ایگزسٹنس (existence) کے بارے میں بھی اشارہ ملتا ہے۔
ایک ٹرکش ویب سائٹ ہے جس پر سفرذولقرنین کو تفصیل سے بتایا گیا ہے سب سے انٹرسٹنگ بات اس ویب سائٹ کی یہ ہے کہ انہوں نے سپیسیفکلی یہ بتایا ہےکہ وہ سفر ہماری ملکی وے گیلکسی میں ہی تھا اور کس کس مقام پر وہ گئے تھے ۔کافی حیران کردینے والی نالج ہے۔
واپس آتے ہیں اپنی بات کی طرف اس قوم کو حضرت ذولقرنین نے ایمان کی دعوت دی جیسا کہ اللہ نے حکم دیا پھر انہوں نے آگے کا سفر طے کیاہر سفر کو اللہ نے سامان سفر(Saman e Safar) کہہ کر پکارا ہے جس سے اللہ بار بار خلائی سفر کی طرف اشارہ دے رہے ہیں آگے کی آیت اور واضح کر دے گی کہ یہ خلائی سفر تھااب اللہ اوزون لیئر کے بارے میں بتا رہے ہیں آپ کو پتا ہوگا کہ سورج سے الٹرا وائلٹ ریز خارج ہوتی ہیں جو کہ زہریلی شوائیں ہوتی ہیں جس سے سکن کینسر لہک ہو سکتا ہےاور انہی الٹرا وائلٹ ریز سے بچنے کے لیے ارتھ کے ایٹموسفیر میں اوزون لیئر موجود ہے اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ اس آیت مبارکہ کو سمجھنا(ترجمہ)کہ ذولقرنین ایک ایسے مقام یعنی پلینٹ پر پہنچے جہاں کے ایٹموسفیر میں اوزون لیئر نہیں تھی جس کو اللہ نے یوں فرمایا کہ وہ ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پاس سورج کی زہریلی دھوپ سے بچاؤ کے لیے کوئی اوٹ یعنی ایٹموسفیر میں اوزون لیئر نہیں تھی ۔
بعض انٹیلیکچولز کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے پلینٹ میں کوئی ایٹموسفیر ہی نہیں تھا لیکن یہاں اللہ نے صرف اوزون لیئر کی بات کی ہے جس کا مطلب یہ ہےکہ ان کے پاس ایٹموسفیر تو تھا لیکن صرف اوزون لیئر نہیں تھی اگر یہ ارتھ پر سفر ہوتا تو یہاں اوزون لیئر کی بات نہ ہوتی اس آیت مبارکہ کو گہرائی سے مطالعہ کرنے والے بتاتے ہیں کہ ان لوگوں نےذولقرنین سے زہریلی دھوپ سے بچاؤ نہ ہونے کی شکایت کی جس کے بارے میں نہیں معلوم کہ اُنہوں نے ان کو اس چیز کا کوئی حل بتایا کہ نہیں لیکن سفر سامان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اُن کا مسئلہ ذولقرنین نے حل کر دیا تھا باقی حقیقت اللہ بہتر جانتا ہےپھر اُنہوں نے ایک اور سفر کیا کسی اور پلینٹ کا یہاں آیت نمبر 92 میں اللہ نے لفظ سبابا کا استعمال کیا ہےجس کو اردو میں پہاڑ سے تشریح دی گئی ہے ۔
لیکن صحابہ نے اسے آسمانی راستوں سے تشریح کیا آیت نمبر 93 میںاللہ نے لفظ صدینی
(Saddainee)استعمال کیا ہے جس کا مطلب ہے رکاوٹ اس لفظ کے عربی میں معنی ہے
Nebula ۔نیبیولا خلا میں دھول اور گیس کا ایک گہرا بادل ہےیہ دھول اور گیس ستاروں کے پھٹنے سے پیدا ہوتی ہے اور انہی نیبیولا سے ستارے اور پلینٹس جنم لیتے ہیں لفظ صدینی کو پہاڑ یا دیوار نہیں کہہ سکتے
کیونکہ سورہ یاسین آیت نمبر 9 میں اللہ نے صدن(Saddan) لفظ کا استعمال کیا ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ذولقرنین ایک ایسے مقام پر پہنچے جو دوNebulas کے درمیان میں تھا اور انNebulas کو ہیلکس نیبیولا کہتے ہیں جو ہماری ملکی وے گیلیکسی میں پایا جاتا ہےاس مقام یعنی پلینٹ پر رہنے والے لوگوں کی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے یا پھر وہ لوگ بات نہیں کر سکتے تھے اُنہوں نے دریافت کیا
کہ اے ذولقرنین یاجوج و ماجوج یہاں فساد مچاتے ہیں آپ ان سے بچاؤ کے لیے کچھ انتظام کر دیں ہم آپ کی مالی امداد کریں گےآپ ہمارے اور ان کے درمیان آڑ بنا دیں اس آیت میں الارد (Al’ard)لفظ کا استعمال کیا ہے اس آیت میں الارد لفظ کا مطلب ہے کائنات میں تمام زمینیں۔

ذولقرنین نے اُن سے دریافت کیا کہ جو ٹیکنالوجی جو سامان میرے پاس ہے وہ تمہارے سامان سے بہت بہتر ہے تم میری مدد کرو اپنے بازوں کی طاقت سے۔ذولقرنین نے جو آڑ بنائی وہ دراصل پگلا ہوا لوہا تھا جودوسرے ایلیمنٹس میں کیمیائی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔ یاجوج ماجوج پورٹل کے ذریعے اُن لوگوں پر حملہ آور ہوتے تھےذولقرنین نے اُس پورٹل کو بند کیا تھا آپ خود اس بات پر غور کریں کہ دنیا میں لوہے اور پگلے ہوئے تامبے سے بنی کونسی دیوار ہو سکتی ہے جس کے چاٹنے سے وہ کمزور ہوکرٹوٹ جائےایسا تو ممکن ہی نہیں ۔
مان لیتے ہیں کہ یہ سب جو میں نے آپ کو بتایا غلط ہے تو یاجوج ماجوج کے بارے میں تو آپ سب نے بہت کچھ سن رکھا ہوگاکہ اُن کی تعداد اتنی ہے کہ جب وہ دنیا میں آئیں گے تو ایک دوسرے میں گھس جائیں گے ایک ایسی قوم جو تعداد میں اتنی کثرت سے ہے کہ ہماری روئے زمین میں پھیلنے کے بعد بھی ایک دوسرے میں گھس جائیں گے تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ وہ اسی زمین پر کسی جگہ پر ایک دیوار کے پیچھے قید ہوں ایک روایت کے مطابق ان کے کان اتنے لمبے ہیںکہ ایک کان کوتکیہ اور دوسرے کو لحاف بنا لیتے ہیں یقیناً انسانوں میں ایسا کوئی نہیں۔ کچھ سکولرز کے مطابق چائنیز رشینزیاجوج ماجوج ہیںجبکہ وہ ایک وحشی قوم ہے جو صرف لوٹ مار اور قتل و غارت کرنا جانتی ہے اور قیامت کے دن ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنمی ہوں گے یہ بات سن کر صحابہ پریشان ہوئےکہ ہمارا تو کوئی چانس نہیں جنت میں جانے کا تو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نو سو ننانوے یاجوج ماجوج ہیں۔ اب آپ خود اس بات سے اندازہ لگائیںکہ حضرت آدم سے لے کر قیامت تک جتنے جنتی ہیں ہر ایک کے بدلے نو سو ننانوے یاجوج ماجوج ہیں۔
تو کیا چائنیز جیپنیز کی اتنی تعداد ہےعقل اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتی ایک روایت کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یاجوج ماجوج میں ایک ایک کے ہزار ہزاربچے ہوتے ہیںاور ان کے بیچ تین قبائل ہیں ان کی بیویاں ہزار سے بھی زائد بچے پیدا کر کے مرتی ہیں تو چائنیز رشینز یا اشکنازی یہودیوں میں ایسی کوئی خصوصیت نہیںاس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ کوئی اور مخلوق ہے جسے خلائی مخلوق بھی کہہ سکتے ہیں ذولقرنین کے بارے میں علماء کرام کا خیال ہے کہ وہ نبی تھے یا اللہ کے خاص ولی لیکن ایک روایت سے پتا چلتا ہے کہ انسان نہیں بلکہ ایک فرشتہ تھے اس بات کا خلائی سفر سے کیا تعلق تو بالکل اس کا گہرائی سے تعلق ہےجبکہ یہ بات واضح ہے کہ وہ فرشتہ تھے تو اس بات کو اور تقویت ملتی ہے کہ خلائی سفر کرنا ان کے لیے ایک عام سی بات ہے جب انسان پر موت واقع ہوتی ہےتو موت کا فرشتہ آسمانوں سے ہی سفر کر کے روح کو لینے آتا ہے اور انہی راستوں سے روح کو آسمانوں تک لے جاتا ہے۔
دوستوں میں نے اپنی ریسرچ کے مطابق آپ تک یہ انفارمیشن پہنچائی میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سو فیصد سچ ہے میں نے وہی انفارمیشن آپ سے شیئر کی جو جدید سائنس خلا اور اسلامک اسکٹالوجی پر محارت رکھنے والےمشہور علماء کرام نے اخص کی ہیں آپ ان باتوں سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں یہ آپ پر منصر ہے باقی سب اللہ بہتر جانتا ہے ۔

آرٹیکل کا اختتام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے