Kepler-22b ہماری زمین جیسا سیارہ کیا چیز ہے؟

سائنس
12 جون 2021 | 00 : 11 - شام

دوستو آج تمام خلائی اداروں کا سب سے بڑا مشن اس زمین کے علاوہ کسی اور سیارے پر زندگی کی تلاش ہے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے انسان انتھک کوشش کر رہا ہے۔جدید سے جدید ٹیلی سکوپس خلا میں بھیجی جا رہی ہیں۔ خواہ وہ سیارہ ہمارے سولر سسٹم سے ہو یا سولر سسٹم کے باہر۔ہمارے سولر سسٹم سے باہر ایسے جتنے بھی پلینٹس ہیں جو اپنے اپنے سورجوں کے گرد چکر لگاتے ہیں ان پلینٹس کو Exoplanet کہتے ہیں۔
ان پلینٹس کو تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں۔کیونکہ اتنی وسیع سپیس میں کروڑوں اربوں ستاروں کے بیچ یہ چھوٹے چھوٹےBlack Dots اپنے سورج کے سامنے آنے پر ہی نظر آتے ہیں۔سائنس دانوں کو الگ الگ وقتوں میں بہت سی تصویریں لینی پڑتی ہیں پھر ان تصویروں پر چمکتے ستاروں کے آس پاس کے حصوں پر غور کرنا پڑتا ہےکہ یہاں کوئی سیاہ نقطہ دکھائی دے رہاہے کے نہیں۔ اور یہی ہوا Kepler-22b کے ساتھ۔ جس کے بارے میں آج ہم جانیں گئے۔
دوستودور سے تو یہ پلینٹ بلکل ہماری اپنی زمین جیسا دکھتا ہے۔ویسا ہی ماحول اور ویسی ہی آب و ہوا۔ کیا حقیقت میں اس پلینٹ میں زندگی ممکن ہے ؟وہ ہماری زمین سے کتنے فاصلے پر ہے؟ اس کا سورج کیا ہمارے سورج جیسا ہے؟وہ سائز میں کتنا بڑا ہے؟ اور کیا ہم اسے دوسرا Earthکہہ سکتے ہیں؟

چلیے جانتے ہیں۔
دوستویہ پلینٹ جس سورج کے گرد چکر لگاتا ہے اُسےKepler-22 کہتے ہیں۔
ان کے نام ایک جیسے ہونے کی وجہ سے تھوڑی confusionپیداہو جاتی ہے۔Kepler-22 ایک بونا ستارہ ہے بلکل ہمارے سورج جیسا اتنا ہی بڑا۔یہاں تک کہ ان کی عمر بھی تقریباً ایک برابر ہے لیکن اس کی روشنی ہمارے سورج کے مقابلے میں 20 فیصد مدھم ہے۔ پھر بھی آپ کی آنکھیں اس کی روشنی برداشت نہیں کر سکتی۔Kepler-22b پلینٹ ہماری زمین سے4.2 گنابڑا اور خوبصورت ہے۔
زمین سے بڑا ہونے کا مطلب ہے کہ یہاںEarth کی طرح Population کا مسئلہ نہیں ہوگا۔اور ہمیں Earthسے دو گنا بڑا سمندر بھی ملے گا ۔سوچیں ذرا کہ ہم آج تکEarth کا سمندر ہی Exploreنہیں کر پائیں اور یہ اس کے مقابلے میں 2گنابڑا ہے۔ایک شہر سے دوسرے شہر تک جانے کا فاصلہ بھی بہت طویل ہوگا ۔ہوائی جہاز کی پرواز کم از کم بھی3 دن کی ہوگی۔ کیونکہ یہ پلینٹ ہماری زمین سےalmost اڑھائی گناہ بڑا ہے تو سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس کا ماس بھی زمین کے مقابلے میں 36 گنازیادہ ہوگا تو اس سے پلینٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
اس پلینٹ کی گریوٹی ہماری زمین سے چھ گنا طاقتور ہوگی۔ جس کا مطلب ہے کہ وہاں 9 کلو آلووں کا وزن ہماری زمین کے 54کلو آلووں کے وزن کے برابر ہوگا۔اس کے علاوہ آپ خود کو بہت وزنی محسوس کریں گے ایک قدم اُٹھانے کے لیے آپ کو بے پناہ طاقت کی ضرورت ہوگی ۔اسstrong gravity میں درخت اور پودے تو بلکل بھی نہیں اُگ سکتے۔جبکہ ہماری زمین کی گریوٹی اتنی زیادہ طاقتور نہیں کہ درخت اور پودوں کو اُگنے نہ دے۔ اس پلینٹ میں رہنے والے جانور بہت طاقتور اور دیوہیکل ہوں گے جن کی بہت سی ٹانگیں ہوں گی۔جب ہی وہKepler-22b کیstrong gravity میں حرکت کرنے کے قابل ہوں گے۔ ان کے جسم انتہائی بھاری قدآور اور زمین کے جانوروں سے زیادہ طاقتور ہوں گے۔
Kepler-22b زمین کے مقابلے میں اپنےسورج سے 15 فیصد قریب ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر یہ ہمارے سولر سسٹم کا حصہ ہوتا تو یہEarth اورVenus کے درمیان میں کہیں ہوتا۔
اور یہ زمین کے مقابلے میں زیادہ گرم اورVenus سے کچھ کم ٹمپریچر ہوتا۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ ہم وہاں سورج کی گرمی سے جل جائیں گے؟
ایسا بالکل نہیں ہے۔کیونکہ یہ پلینٹEarth کے مقابلے میں 15 فیصد قریب تو ہے ۔لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بتایا کہ اس کا سورج Kepler-22 ہمارے سورج سے20 فیصد کم روشن ہے۔جس کی وجہ سے اس پلینٹ کا درجہ حرارت بلکل ہماری زمین کے برابر ہوگا اور یہ پلینٹ Earth کی طرح ہی اپنے سولر سسٹم کےHabitable zone میں ہے۔
اگر یہ پلینٹ Uranus کی طرح اپنیsides پر جھکا ہوا ہے تو وہاں موسم ناقابل یقین حد تک سرد ہوگا جبکہ گرمیوں کے دن بہت ہی کم ہوں گئے۔اس کے علاوہ زمینی علاقہ بہت کم ہوگا کیونکہ زمین کے دونوں طرف سمندر ہوں گے۔ لیکن اگرKepler-22b ہماری زمین ہی کی طرح گردش کرتا ہے۔
تو اس کا وسیع پھیلا سمندر ،اس کے درجہ حرارت کو کم رکھنے میں کافی مددگار ثابت ہوگا ۔کیونکہ پانی Heat کوجذب کر لیتا ہے۔اور پھر اسHeatکوپورے سیارے پر اس طریقے سے تقسیم کرتا ہے کہ گرم علاقے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اورٹھنڈے علاقے گرم ۔یہی سب اربوں سال پہلے ہمارےEarth کے ساتھ ہوا تھا۔جس سے ہماری ہولناک زمین زندگی کے لیے سازگار اور خوبصورت بن گئی۔

Kepler-22b میں اگر کوئی ایٹموسفیر نہیں ہواتو سائنس دانوں کا خیال ہے کہ وہاں کا اوسطا درجہ حرارت منفی 11ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا ۔جبکہ اگر زمین جیسا ایٹموسفیر ہواتو یہ ٹمپریچر22 ڈگری سیلسیس ہوگا جو زندگی کے لیے مناسب ہے۔ Kepler-22b کا ایک سال ہماری زمین کے290 دنوں کے برابر ہے یعنی نو مہینوں کا ایک سال۔لیکن بدقسمتی سے اس پلینٹ کا کوئی چاند نہیں اور چاند ہی کی وجہ سے ہمارے سمندر میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ اس صورت میںKepler-22b کا سمندر silent رہے گا۔
اس میں لہریں پیدا نہیں ہوں گی اور انسانوں کو چاند کے خوبصورت نظارے کو ہمیشہ کے لیے الویدہ کہنا ہوگا ۔سائنس دانوں کو اب تک یہ نہیں معلوم کہ Kepler-22b کی صدا پتھریلی ہےیا پھر ایک Gas giant ہے۔ اگر تو یہ ایکGas giant ہوا تو پہلے بتائی گئی تمام معلومات بیکار ہے لیکن اگر اس کا Core ٹھوس ہوااور یہ پورا سیارہ ایک بڑے سمندر سے ڈھکا ہوا ہوا۔ تو اس صورت میں انسانوں کو وہاں رہنے کے لیے سمندر کے نیچے شہر آباد کرنا ہوگا اور انسان مچھلیوں پر زندہ رہیں گے۔جو ظاہر سی بات ہے ناممکن ہے۔ Kepler-22b Earth سے635 لائٹ ائیر دور ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر ہم سپیڈ آف لائٹ سے سفر کریں گےتو ہی 635سال بعد ہماری Space Ship وہاں
Land کرے گی اور یہ اب تک زمین کی طرح دکھنے والا سب سے قریب ترین سیارہ ہے۔

دوسرے سیاروں پر زندگی کی انتھک تلاش میں ناسا نے اب تک 4 ہزار زمین جیسے سیاروں کی فہرست تیار کی ہے۔جہاں زندگی کے لیے حالات ہماری زمین کی نسبت زیادہ آرام دے ہیں ۔مثلا
KOI-5715.01۔اس سیارے کے سورج کا کلرOrnge ہےاور اسcolor کا مطلب ہے کہ یہ سورج ہمارے سورج سے بھی چھوٹا ہے جبکہ اس کی روشنی اور Heat بھی قدرے کم ہے ۔یہ پلینٹ اپنے سورج کے بہت قریب گردش کر رہا ہےاورthick atmosphere ہونے کی وجہ سے اس کا آسمان رنگین اور خوبصورت نظر آئے گا ۔
KOI-5715.01یہ دوسرا Exoplanet ہے جو صرف ساڑھے پانچ ارب سال پرانا ہے۔ جبکہ ہماری زمین عمر میں اس سے ایک ارب سال چھوٹی ہے۔
یہ پلینٹ اپنے سورج سے کافی قریب ہے اورHabitable zone میں ہے لیکن اپنے سورج سے قریب ہونے کی وجہ سے اس کا ایک دن 190 دنوں تک طویل ہوتا ہے۔یہ پلینٹ ہماری زمین سے
2 گنابڑا ہےاس کا ٹمپریچر بھی 11 ڈگری سیلسیس ہے۔ جبکہ ہماری زمین کا ٹمپریچر 14 ڈگری سیلسیس ہے۔لیکن وہاں آپ کو گرمی زیادہ محسوس ہوگی کیونکہ اس کی کشش ثقلEarth کے مقابلے میں کافی strong ہے جو گرمی کا ٹمپریچر برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے۔یہ پلینٹ Earth سے 3000 لائٹ ائیردور ہے یعنی ہمیں سپیڈ آف لائٹ سےtravel کرنے پر 3000 سال تک سفر کرنا ہوگا۔
دوستومیں نے آپ کو تینExoplanet کے بارے میں بتایا ہے اگر آپ مزیدExoplanets کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو کمنٹ سیکشن میں پارٹ 2 لکھیں۔

آرٹیکل کا اختتام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے