ناسا نے بلیک ہول کے اندر کیا دیکھا؟

سائنس
10 مئی 2021 | 35 : 12 - صبح

دوستوں اگر ہم انسان کوئی سپیس کرافٹ انوینٹ کر لیں جو سپیڈ آف لائٹ یعنی تین لاکھ کلومیٹر پر سیکنڈ کی رفتار سے سپیس میں ٹریول کرے تو ہمیں اپنی ملکی وےگیلکسی سے باہر نکلنے کیلئےایک لاکھ سال درکار ہوں گے اور اگر ہم اپنی سب سے نزدیک پڑوسی گیلکسی Andromeda تک جائیں تو مزید25 لاکھ سال درکار ہوں گے اسی بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیںکہ جب قریبی چیزیں اتنی دور ہیں تو یہ یونیورس کتنا بڑا ہے یہ ہمارے لیے ان ایمیجنیبل ہے
لیکن آج سائنس دان اور سپیس ایجنسیز لاکھوں کروڑوں لائٹ ائیر دور خلا کو ایکسپلور کر رہے ہیںمگر اس کافائدہ کیا جب ہم وہاں تک پہنچ ہی نہ پائیں لیکن اگر میں آپ سے کہوں کہ یہی لاکھوں کروڑوں سال کا فاصلہ چند لمحوں میں تہہ ہو جائے تو یہ بات ایمپوسیبل سی لگتی ہےلیکن یہ حقیقت ہےمگر کیسے؟ یہی سب آج کی تحریرمیں ہم جانیں گے ۔
دوستوہمارےسپیس میں ایسے شارٹ کٹ راستے موجود ہیںجن سے لاکھوں کروڑوں لائٹ ائیرز کا فاصلہ چند لمحوں میں تہہ ہو جائے گا اور ان شارٹ کٹ راستوں کو وارم ہولز کہتے ہیں دوہزار چودہ میں ریلیز ہونے والی مووی انٹر سٹیلر میں یہی سب دکھایا گیا ہےکہ کوپر اور ان کی ٹیم ارتھ کو چھوڑ کر ایک دوسرے پلانٹ کی کھوج میں نکلتے ہیں کسی دوسری گیلکسی میں۔ جہاں وہ ایک وارم ہول کے ذریعے چند منٹوں کے اندرپہنچتے ہیں۔
دوستو سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنے کے لیے کہ وارم ہولز کیسے دکھتے ہیں اور ان کے ذریعے ہم سپیس ٹائم میں کیسے سفر کر سکتے ہیں ہمیں سمجھنا ہوگا آئنسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیوٹی کو۔
آئنسٹائن نے اس تھیوری کو پریزنٹ کیا تھا سال 1915 میں۔ آئنسٹائن نے کہا تھا کہ تصور کریں کہ سپیس ایک چادر کی طرح ہے اور اُس چادر پر اُوبجیکٹس رکھے گئے ہیں جن کے وزن سے وہ نیچے
bend ہو جاتی ہےحقیقت میں سپیس ٹائم بھی ایسے ہی bend ہوتا ہے بڑے بڑے سٹارز کے وزن سے۔
کسی خلائی اوبجیکٹ کی جتنی زیادہ گریویٹیشنل فورس ہو گی اتنا زیادہ اس کے آراؤنڈ سپیس ٹائم curve ہو جائے گااور آس پاس کی چیزیںاس کےاردگرد گھومنے لگیں گی جیسے ہمارے سولر سسٹم کے تمام پلینٹس سورج کے گرد گھومنے پر مجبور ہیں اس کے ماس اور گریوٹیشنل فورس کی وجہ سے۔
آئنسٹائن کی تھیوری کے ویسے توبہت سےsolution نکلے تھےلیکن اُن میں سے بلیک ہول اور وارم ہولز دو مینsolution ہیں وارم ہولز کو آئنسٹائن روزن بریج بھی کہتے ہیں اسے سمجھنا بہت ہی آسان ہے یہbasically ایک شارٹ کٹ راستہ ہےاس سپیس ٹائم میں۔ جو دو پوائنٹس کو کنیکٹ کرتا ہے اس کو ایسے سمجھیں کہ اس پیپر پر دو پوائنٹس ہیں اے اور بی جس کا ایک سیدھا راستہ ہے اے سے بی تک جانے کا لیکن اگر اس پیپر کو bend کر دیں تو یہTwo dimension سےthree dimension میں بدل جائے گااور اب ایک پوائنٹ سے انٹر ہوتے ہی آپ دوسرے پوائنٹ سے باہر آ جائیں گے تو یہ ڈسٹنس اے اور بی کا ختم ہو جاتا ہے یہی سچویشن ہے وارم ہولز کی ۔ہمیں لگتا ہےکہ ملکی وے گیلیکسی سے andromeda galaxyتک پہنچنے کا سب سے شورٹ کٹ راستہ ہے5.2 ملین لائٹ ائیرز۔

لیکن اگر ہماری کائنات کوFour dimension میں bend کیا جائے تو ایک بہت شارٹ کٹ راستہ نکل آئے گا جو چند منٹوں میں ہمیں ملکی وے سے انڈرو میڈا تک پہنچا دے گا۔

دوستووارم ہولز کیسے دکھتے ہیں سکرین پر جو آپ کو دکھ رہا ہے یہ ایک ویب سائٹ ہے جو آپ کو دکھاتی ہے کہ وارم ہولز اصل میں کیسے دکھتے ہیں اور انٹر سٹیلر مووی میں جو وارم ہول دکھایا گیا ہے یہ کافی حد تک
Realisticہے یہ وارم ہول ٹائم مشین کا بھی کام کرتے ہیں کیونکہ آپ منٹوں میں میلینز آف لائٹ ایئرز دور پہنچ سکتے ہو اس کا مطلب ہے کہ آپ لائٹ سے بھی پہلے وہاں پہنچ گئے ہو۔ وارم ہولزکہاں ایگزسٹ کرتے ہیں اور ہمیں کیسے پتا چلے گا ؟
تو اس کا جواب ہے کہ ہمیں بہت زیادہ گریویٹیشنل فورس کی ضرورت ہے ایک وارم ہول کو کھولنے کیلئے ۔اور یہ گریویٹیشنل فورس آئے گی صرف بلیک ہولز سے۔
بلیک ہولز آئنسٹائن کی تھیوری آف ریلیٹیوٹی کی وجہ سے ہی ڈسکور ہوئے اس تھیوری کے مطابق جتنا زیادہ آپ گریویٹیشنل فورس ایکسپیرینس کریں گے اتنا زیادہ آپ کے لئے ٹائم سلو ہو جائے گااسے گریویٹیشنل ٹائم ڈائلیشن کہتےہیں اسی کانسپٹ کو انٹر سٹیلر مووی میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس پلینٹ پر لینڈ کرتے ہیں اُس کا ایک گھنٹہ ہماری زمین پر سات سالوں کے برابر ہوتا ہے ایسااس لیے کہ وہ پلینٹ بلیک ہول کے قریب ہوتا ہے اور بلیک ہول سے آ رہی گریویٹیشنل فورس اس پلینٹ پر اثر انداز ہوتی ہے بلیک ہول سننے میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی ہول ہے سپیس میں۔
لیکن اصل میںاس سپیس میں کوئی ہول نہیں ہوتا بلیک ہولز ایسے آبجیکٹ ہیں خلا میں۔ جن کی گریویٹیشنل فورس اتنی زیادہ ہے کہ وہ لائٹ کو پورے طریقے سے اپنے اندرabsorb کر لیتے ہیں ہمیں وہی چیزیں دیکھتی ہیں جن پرلائٹ ریفلیکٹ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بلیک ہولز حقیقت میں دکھائی نہیں دیتے بہت ہی بڑے سٹار کے مرنے کے بعد بلیک ہول وجود میں آتا ہے اور ایک Star کی عمر لاکھوں کروڑوں سال ہوتی ہے۔
کیونکہ اُن سٹارز کے مرنے کے بعد بہت ہی چھوٹا سا کور رہ جاتا ہے اور ساری کی ساری گریویٹیشنل فورس اس کور میں کمپریس ہو جاتی ہے بلیک ہولز میں ایک پوائنٹ ہوتا ہے جسے ایونٹ ہورائزن کہتے ہیں جو ابھی آپکو اپنی سکرین پر بھی دکھ رہا ہے یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں سے کوئی بھی چیز واپس پیچھے نہیں آ سکتی اور بلیک ہول کا جو سینٹر ہوتا ہے اسے singularityکہتے ہیں singularity ایک ایسا ریجن ہے بلیک ہول کا۔ جہاں کا ڈائریکٹ اثر ٹائم پر پڑتا ہے اوریہاں گریویٹیشنل فورس اتنی زیادہ ہے کہ ٹائم بھی انفینائٹلی سلو ہو جاتا ہے
مطلب یہ کہ جب ہم بلیک ہول سے باہر آ چکے ہوں گے تو کئی میلین ائیرز گزر چکے ہوں گے لیکن آپ کی عمر اُتنی ہی ہوگی کیونکہ ٹائم آپ کے لئےرک چکا تھااگرآپ کسی بلیک ہول میں گرتے ہیںتو ملی سکینڈ میں گریویٹیشنل فورس کی وجہ سے آپ کے ٹکڑے ہو جائیں گے ایک بلیک ہول میں ہی اتنی پاور ہے کہ وہ وارم ہول کی ٹنل کو کھول سکے لیکن اگر اس ٹنل کی دوسری طرف بھی بلیک ہول ہوا تو آپ اس ٹنل میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے اور کبھی باہر نہیں نکل پائیں گے تو ایک ایسی چیز کا ہونا لازمی ہے جو بلیک ہول کے بالکل اپوزٹ(opposite) کام کرے جس طرح بلیک ہول ہر چیز کو اپنے اندرکھینچ لیتا ہے۔

اسی طرح وہ اوبجیکٹ اس کے اپوزٹ کام کرے یعنی اپنے سے دور پھینک دے اور ایسے اوبجیکٹ کو کہتے ہیں وائٹ ہولز۔ وارم ہول کے ٹنل کو اوپن کرنے کیلئے بلیک ہول اوراُس سے باہر نکلنے کیلئے دوسری سائیڈ پہ وائٹ ہول کا ہونا لازمی ہے جو ایگزیٹ پوائنٹ کا کام کرے گا وائٹ ہولز کی ایگزسٹنس کو سائنس دانوں نے آئنسٹا ئن کی ایکوئیشن سے پروف کرنے کی کوشش کی ہے سائنٹیسٹ کا ایسا ماننا ہے کہ Big Bangکے ٹائم پر جو دھماکہ ہوا تھا اور اُس سے یونیورس وجود میں آیا تھا وہ سب کچھ ایک بہت ہی بڑے وائٹ ہول سے نکلاہو گا کئی سائنٹیسٹ کہتے ہیں کہ وائٹ ہول تب پیدا ہوتاہے جب ایک بلیک ہول مر جاتا ہے لیکن ابھی تک کیلئے یہ سب صرف تھیوریز ہیں ویڈیو کے سٹارٹ میں میں نے جو آپ کوsurah al waqiahکی آیت سنائی ہے وہ بلیک ہول کے وجود کی تصدیق کرتی ہے اور اللہ تعالی نے ستاروں کی آخری منزل یعنی بلیک ہول کی قسم کھاتے ہوئے
کلام کیا ہے کہ جہاں ستارے گرتے ہیں یعنی بلیک ہول کی گریویٹیشنل فورس ہر چیز کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔
دوستو انسان کبھی وارم ہول کے ذریعے سفر ہی نہیں کر پائے بلکہ کبھی وارم ہول کی ٹنل کو بھی کھول نہیں پائے گا وہ اس لیے کیوں کہ قرآن میں اللہ نےارشاد فرماتے ہوئے صاف بتا دیا کہ اگر ہم ان لوگوں کیلئے آسمان کے دروازے یعنی وارم ہولز کو کھول دیں تو بھی یہ اُس کے ذریعے سفر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور یہ سب ان کی سمجھ سے ہی بالاتر ہے لیکن انسان کی فطرت ہے کہ اُسے جس کام سے روکا جائے وہ وہی کام کرتا ہےانatheist scientistsنے اللہ سے چیلنج کیا ہو ا ہے جیسے کہ ہامان نے کیا تھا
کہ وہ سیڑھی بنائے گا اللہ تک پہنچنے کی۔

آرٹیکل کا اختتام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے