ایلین کی Hybrid کردہ نا قابل یقین نسل

سائنس
5 مارچ 2021 | 14 : 10 - شام

دوستو 1927 میںBritish archaeologist،، Leonard WoolleyکوIraq میں اعلیٰ درجے کی کھدائی کے دوران، ایک قدیم ملکہ کی کھوپڑی ملی۔ جس کا سر غیر معمولی طور پر اُونچا تھا جو اس بات کی طرف اشارہ تھاکہ کبھی انسان کاExtra-Terrestrial مخلوقات کے ساتھ Interaction تھا اور سائنس دانوں نے اس طرح کی کھوپڑیاں صرف Iraq سے نہیں بلکہ دنیا کے ہر برے اعظم سےدریافت کیں۔ جس سے معلوم ہو رہا تھا کہ اُن مخلوقات کا انسانوں سے بہت بڑے پیمانے پرInteractionتھا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ سائنس دانوں کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ایکHybrid مخلوق ہے ؟ یعنیExtra-Terrestrial مخلوقات کےInteractionسے پیدا ہونے والی انسانی نسل۔ دراصل سائنس دانوں نے اس کھوپڑی کی ہڈیوں کاGenetic Test کیا اور حیرت انگیز طور پراس کےGenes میں وہ خصوصیات پائی گئیں جو اس دنیا کے انسانوں میں ہونا ممکن نہیں۔ یہ GenesدراصلAnunnaki کےGenes کی طرف اشارہ کر رہی تھی اور ریسرچ کے ذریعےسائنس دانوں نے دکھایا کہAnunnakiکچھ اس طرح کے دکھتے ہوں گے۔ ان کے سر کی ہڈیاںCone Shape کی طرح ہیں اور یہ کھوپڑی اصلAnunnaki کی نہیں بلکہ ان کی Hybrid مخلوق کی ہے۔

دوستو دریافت ہونے والی یہ کھوپریQueen Puabi کی تھی جواپنے خاندان کی پہلی شہزادی یا پادریا تھی ۔اس کا یہ اعلی درجہ اس بات کا ثبوت دے رہا تھا کہ وہAnunnaki کے حکمرانوں کے بہت قریب تھی یا ان کی بہت خاص تھی۔سائنس دان اس ملکہ کی کھوپڑی پر جتنی ریسرچ کر رہے ہیں اتنی نئی سے نئی حیرت انگیز باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ کھوپڑیAnunnaki اور انسانوں کے درمیان دروازوں کی حیثیت رکھتی ہے جو ہمیں اُن کی طاقت اور اُن تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے ۔Mesopotamiaاور دنیا بھر سے ایسی کھوپڑیوں کا دریافت ہونا ،پھرقدیم تہذیبوں کے صحیفوں میں مخلوقات کا آسمانوں سے اُترنے کا ذکر ملنا ،مثلاCentral America کے صحیفوں میں اُڑنے والے فرشتوں کا ذکر ملتا ہے جو دوسری دنیاوں سے آیا کرتے تھےجن کو وہAnasazi کہتے تھے یعنی Anunnaki سے ملتا جلتا نام۔
سائنس دانوں اور آرکیولوجسٹ کا کہنا ہے کہ ہمیں ریسرچ کے دوران تقریباً ہر قدیم تہذیب کے صحیفوں میں ایک ہی طرح کی ملتی جلتی کہانیاں اور داستانیں پڑھنے کو ملی ہیں جن میں ایک ہی طرح کی مخلوق کا ذکر آیا ہے جو بہت طاقتور جادوی مخلوق ہے جو ہمارے اُوپر سے آتی ہیں۔سائنس دان جو اب تک اس بات کو افسانوی کہانیاں سمجھتے تھے کہ آسمانوں سے بھی کوئی مخلوق زمین پر اترتی ہے، اب اس بات کو سچ ماننے پر مجبور ہیں ۔دنیا کے تمام براعظم جن کے درمیان فاصلہ، دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا ہے ان سب کے صحیفوں میں ایک ہی طرح کی مخلوق کا ذکر ہونا ،ایک ہی خیال ہونا ،کیسے ممکن ہے؟

سائنس دان کہتے ہیں کہ یہی بات آپ کو ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ ایک زندگی تھی جو ستاروں کی دنیا سے آیا کرتی تھی۔دوستو Anunnaki کے متعلق میں آپ کو پچھلی ویڈیو میں Alread تفصیل سے بتا
چکا ہوں۔یہ بھی کہ سائنسدانوں نے Mesopotamiaمیں رہنے والی قدیم تہذیب سومیرین کی لکھی گئی Tabletsبھی دریافت کی تھی ۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انTabletsمیں سے اکثریت پر لکھے پیغامات کو سمجھنا ناممکن ہے۔
لیکن یہاں میں آپ کو ایک بات بتانا چاہوں گا کہ امریکہ نے Iraq پر جنگ مسلط کر کے سب سے پہلے اُن Tablets کوچُوراکر، خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ۔اب آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اُن Tablets میں کتنا طاقتور علوم چھپا ہے جس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے اور آج تک اُنTablets کی کوئی خبر نہیں ۔1843 میںFrench scientist،، Paul Emile نے ریسرچ کے دورانIraq میںAssyria Palace میںUndergroundخفیہ کمرے کو ڈھونڈ نکالا جس کی دیواروں پر قدیم سومیرین کی تحریر یںنقش تھی یہاںبہت سے خوبصورت خزانے اور سومیرین کے دیوتاں اور بادشاہوں کے مجسمے رکھے تھے۔دوستوPyramid کی طرح بنے اس اسٹرکچر کوThe Great Zigguratکہتے ہیں ۔یہاں سے سومیرین کے لوگ شہر کا نظام چلاتےتھے۔ یہ عمارت نہ صرف تحریروں سے بھری ہوئی تھی بلکہ آرکیلوجسٹ کو سونے سے لیس خزانے بھی ملے ۔چھ ہزار سال قبل پتھروں کے زمانے میں سومیرین تہذیب جدیدEconomic system کی بنیادوں پر قائم تھی جس میں سائنس، زرات ،میڈیسن ،Mathematics، عدالتیں، سکول، سب نظام موجود تھا ۔ سائنس دان حیران ہیں کہ چھ ہزار سال قبل پتھروں کے زمانے میں اتنی جدید طرز کی تہذیب، اُن کے پاس یہ علوم کہاں سے آیا؟ سائنٹیسٹ کو سومیرینز کی تحریروں سے یہ معلوم ہوا کہ وہ لوگAnunnakis کوDivine Beingsسمجھتے تھے
یعنی خدا کی شہزادی اولاد ،یہ بہت سے معبودوں پر ایمان رکھتے تھے جن میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ در حقیقت یہی ساڑھے 900 سال حضرت نوعلیہ السلام نے عقیدہ توحید کی تبلیغ کی۔ کہ خدا ایک ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں اور پھر ایک عظیم طوفان کا آنا ،جس سے دنیا کو اس بدترین شرک سے پاک کر دیا گیا۔ان کے معبود اُونچے اور نچلے درجوں میں بٹے ہوئے تھے جو اعلی درجے کے خدا تھے انہیں آسمانی خدا مانا جاتا تھا جبکہ نچلے درجے کے خدا زمین کا نظام چلاتے تھے۔
ان معبودوں میںAnunnaki اعلی درجے کے دیوتا تھے سب سے زیادہ طاقتور۔ سومیرینز اُنہیںNon-physical روحانی مخلوق مانتی تھی جوانسانی شکل میں تبدیل ہو کر دنیا میں اترتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہAnunnaki کا اصل مقصدکچھ اورتھا جسے ہم نہیں جانتے۔ اُن کی تحریروں سے آرکیلوجسٹ کو معلوم ہوا کہ وہ1000 سال جیتے تھے۔ اُن کے پاس
علم ،دنیا کو کنٹرول کرنے کی طاقت اور دنیا کے متعلق ہر چیز کا علم ہوا کرتا تھا ۔وہ انسانوں کو حکمت دینے
اور ایک خصوصی Mission کے تحت زمین پر اُترے تھے ۔یہ مخلوق کہاں سے آتی تھی اس کے متعلق سائنس دان بڑی دلچسپ بات بتاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہAnunnaki زمین پرسونا اور دیگر معدنیات کی تلاش میں آئے تھے جو ان کے سیارے پر نایاب تھی لیکن یہ معدنیات زمین پر کثرت سے موجود ہیں ۔سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ Anunnaki مارس پر بھی اُترا کرتے تھے جب مارس بالکل زمین جیسا سازگار ماحول رکھتا تھا جب اس کے دریاؤں میں پانی بہتاتھا۔ اور آج اس کا منہ بولتا ثبوت ناسا کا Curiosity Roverہے جو مارس پر اُنہی تہذیبوں کے نشانات کو تلاش کرنے کے لیے کام کر رہا ہے ۔سائنس دانوں کا ایسا بھی ماننا ہے کہ مریخ پرGale Crater نامی سوکھی جھیل کا پانی دراصلAnunnaki کے زیر استعمال تھا اور اس سے بھی زیادہ، وہ اس دلچسپ سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں کہ مریخ پر ایسا کیا ہوا کہ اس پر سے زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور اس کاماحول اور فضا دونوں ختم ہو گئے ۔

کہیں مریخ کے سازگار ماحول کے خاتمے کے پیچھےAnunnakis تو نہیں ہیں؟
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ بات کسی طریقے سے ثابت ہو جائے تو اُن مخلوقات کے وجود کا راز حقیقی معنوںمیں واضح ہو جائے گا۔Zecharia Sitchinجوایک مشہور مصنف اور سومیرین کلچر کے ریسرچر تھے جن کے متعلق میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اُنہوں نے اس موضوع پرکئی کتابیں پبلیش کی۔ ان کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر میں فروخت ہوئیں اور 25 سے زائد زبانوں میں ان کا ترجمہ بھی کیا گیا۔ وہAnunnaki کےExtra-Terrestrial مخلوق ہونےپر گہرہ یقین رکھتے تھے اُنہوں نے اپنی کتابوں میں دعویٰ کیا کہNeptune کے پاس Nibiru نام کا ایک سیارہ ہوا کرتا تھا جہاں سے Anunnaki کی نسل زمین پراُترتی تھی اور مریخ ان کے لیے راستے میں آنے والے سٹیشن کے طور پر کام کرتا تھا۔ ان کی تھیوریز پر ریسرچ کرنے والے سائنس دان دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر تو یہ بات واقعی سچ ہےتو مریخ پر اس تہذیب کے آثار ضرور ملیں گے اورZecharia Sitchin کی یہ تھیوری واقعی سچ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اُن لوگوں نے پھر10 پلینٹس کا سولر سسٹم آخر کیسے بنایا؟
Zecharia Sitchin اپنی کتابThe 12th Planet میں لکھتے ہیں کہ Nibiru خلا میں ایک ایسے راستے پر ہے جسےElliptical Path کہتے ہیں یعنی ایسا سیارہ جو ہر 3 ہزار چار سو پچاس سالوں میںسولر سسٹم کی حدود میں آ جاتا ہے اور سال2900میں اس کا دوبارہ سولر سسٹم کی حدود میں آنا متوقع ہے ہم توقع کرتے ہیں کہ Future میں وہ ہم سے کئی گناہ نئی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گئے اور وہ نئی حکمت اور خیالات انسانوں میں منتقل کرنے کیلئے زمین پر آئیں گئے۔ لیکن حقیقتاً طوفان نوح دراصل انہی مخلوقات کے خاتمے کیلئے آیااور ان کے ساتھ وہ انسان بھی اس طوفان کے عذاب میں بہہ گئے جو اُنہیں خدا تصور کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ اُنہیں کسی بھی قسم کےطوفان سے بچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔

آرٹیکل کا اختتام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے