Fallen Angelsکون ہیں؟ انہیں آسمان سے کیوں نکالا گیا تھا؟

سائنس
16 فروری 2021 | 44 : 11 - شام

دوستو Fallen Angelsکون ہیں؟

انہیں آسمان سے کیوں نکالا گیا تھا؟
کیا یہ فرشتے ہیں یا کوئی اور مخلوق ؟کیا فرشتے اور انسان کی شادی ہو سکتی ہے؟ ان جیسی اور بھی بہت ساری باتیں، آج کی اس تحریرمیں آپ کو مختلف حوالہ جات کے ساتھ بتاؤ گا۔

دوستویہودیت یعنی Judaism میں اچھے اور برے فرشتوں کا ذکرBook of Enochمیں ملتا ہے۔ یہودیوں کے مطابق یہ کتاب حضر ت ادریس علیہ السلام نے لکھی تھی جس کا کوئی Verified ثبوت نہیں ہے۔ Book of Enoch کے مطابقwatcher angels وہ فرشتے تھے جن کی ڈیوٹی انسانوں کے ساتھ تھی۔ اور وہ آسمان کی اُنچائیوں سے بنی نوع انسان پر نظر رکھتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں آدم علیہ السلام کی اولاد میں خوبصورت لڑکیوں سے محبت ہوتی گئی اور اُنہی لڑکیوں کی محبت میں مجبور ہو کر ،اُنہوں نے اپنے آپ کو بلندیوں سے گرا دیا۔ یعنی اللہ کے حکم کے خلاف چلے گئے۔جس کے نتیجے میں سزا کے طور پر اُن سےimmortal powersچھین لی گئیں اور وہ انسانوں کی طرح ہو گئے۔ مگر ان میں چند خصوصیات باقی رہ گئیں مثلاً عام انسانوں سے دس گناہ زیادہ طاقت، بہت لمبی عمریں اور کچھ مزیدSupernatural طاقتیں ،انسانی شکل میں آنے کے بعد اُنہوں نے انسانی عورتوں سے شادیا ں کر لی اور پھر یہangels (فالن اینجلز) کے نام سے پہچانے جانے لگے۔

عیسائیت یعنیChristianity اُدھر بھی Book of Genesis میں فالن اینجلز کا ذکر موجود ہے. اس میں لکھا ہےکہ خدا کے بیٹوں کو آدم علیہ السلام کی بیٹیوں سے محبت ہو گئی۔ اور پھر اُنہوں نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں سے شادیا ں کیں۔ ظاہر ہے آدم علیہ السلام کو تو یہاں خدا کا بیٹا نہیں کہا جا رہا اور نہ ہی دیگر انبیاء کو۔۔یہاں خدا کے بیٹوں یعنی Sons of God سے مراد ہے فرشتے۔۔ یعنی Book of Enoch اور Book of Genesis کے مطابق فرشتے اپنی مرضی کر سکتے ہیں یعنی اللہ کے حکم کے خلاف بھی جا سکتے ہیں۔اور بغاوت بھی کر سکتے ہیں۔

اب آئیے قرآن پاک اور احادیث سے فرشتوں کی اپنی مرضی والی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں واضح طور پر بتایا گیا ہے ۔یہ فرشتے اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو اللہ حکم دیتا ہے بلکل ویسا ہی کرتے ہیں(سورہ تحریم آیت نمبر 6)۔ سورہ نہل آیت نمبر 49 اور 50 میںاللہ عالی فرماتے ہیں۔اور فرشتے غرور نہیں کرتے،اپنے اُوپر اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں۔ اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ہو۔ احادیث مبارکہ کے مطابق فرشتے ہر گناہ سے پاک ہوتے ہیں یہ صرف وہی کرتے ہیں جس کا اللہ سبحانہ وتعالی اُن کو حکم دیتا ہے۔اور یہ اس حکم کو پورا کرنے میں نہ کوئی کوتا ہی کرتے ہیں۔ اور نہ ہی خیانت۔

اب یہاں پر میں 1998 میں بنائی گئی ہالی وڈ کی ایک فلم City of Angels کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔اس فلم میں فرشتے کالے کپڑے پہنے اُونچی اُونچی بلڈنگوں کی چھتوں پر رہتے ہیں۔ اور وہ لوگوں کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ یہاں ایک بہت ہی اہم پوائنٹ اپنے ذہن میں رکھیے گا۔کہ وہ انسانوں کو نظر نہیں آ رہے ہوتے ۔مگر جس کو وہ خود چاہے نظر آ جاتے ہیں ۔پھر اپنی نگرانی کے دوران ایک فرشتہ ایک لیڈی ڈاکٹر کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اور پھر بلاخر ایک دن وہ محبت کا ماراایک اُونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر اپنی آسمانی حیثیت کھو دیتا ہے۔ اور ایک عام انسان بن جاتا ہے اور اُس لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ رہنے لگتا ہےہم۔۔۔۔۔ ویسے یہ تو بالکلBook of Enoch والی تھیوری ہے کیا خیال ہے؟اس فلم میں جو Book of Enoch کی تھیوریApply ہوئی ہے۔ اس کے مطابق اگر کوئی فرشتہ جان بوجھ کے اپنے آپ کو Hight سے نیچے گراتا ہے تو انسان بن جائے گا بڑی عجیب بات ہے۔۔۔یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان ایک low لیول کی مخلوق ہو گئی۔ اور فرشتہ ہائی لیول کی۔ جبکہ ہمیں قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق یہ پتا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروایا تھا ۔ سورہ بقرہ آیت نمبر 34 میں اللہ پاک فرماتے ہیں۔اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے سجدہ کرو۔

اچھا اگر اب اسی تھیوری کوفالو کیا جائے اور کوئی انسان اسHight سے اپنے آپ کو نیچے گرا دے تو کیا وہ انسان سے بندر بن جائے گا؟ کیا خیال ہے؟ چلیے اس تھیوری کو ہم قرآن پاک اور احادیث کے ٹیسٹ سے گزارتے ہیں ۔نمبر ایک فرشتے لوگوں کو نظر نہیں آتے اور ڈیوٹی پر ہوتے ہیں بلکل ٹھیک ،لیکن وہ جسے چاہیں اپنا آپ اپنی مرضی سے دکھا سکتے ہیں بلکل غلط، جیسے کہ پہلے بات ہو چکی ہے کہ فرشتے اپنی مرضی نہیں کرتے اور نہ ہی کر سکتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو نظر آ سکتے ہیںاللہ کے حکم کو فرشتے بلکل روبورٹس کی طرح بغیر کسی تاخیر کے مکمل پورا کرتے ہیں وحی والے فرشتے یعنی جبرائیل علیہ السلام بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم سےحضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ظاہر ہوا کرتے تھے۔ اس کی مثال ہے Surah Ad-Duhaa کا نزول ۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر چھے مہینے سے کوئی وحی نہ آئی تھی۔نہ ہی آپ کو جبرائیل علیہ السلام نظر آئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پریشان ہو گئے تھے ۔اگر جبرائیل علیہ السلام اپنی مرضی پر چل رہے ہوتے تو وہ کسی بھی وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسلی دینے کے لیے خود کو آپ پر ظاہر کر دیتے۔ مگر جبرائیل علیہ السلام چھے مہینے بعد اللہ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے Surah Ad-Duhaaتسلی کے الفاظ کے ساتھ لے کر آئے۔ہاں مگر ایک مخلوق ہے جو اپنی مرضی کر سکتی ہے کیونکہ ان کے پاسfreewill ہے اور جو بلکل فرشتوں کی طرح ہمیں نظر نہیں آتے مگر اپنی مرضی سے اپنا آپ ہمیں دکھا سکتے ہیں۔سورہ اعراف آیت نمبر 27۔ بے شک ابلیس اور اُس کا کُنْبَہ(Kumba) تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم اُنہیں نہیں دیکھ سکتے۔۔City of Angels فلم میں یہ فرشتے اونچی جگہوں اور خاص طور پر چھتوں پر بیٹھ کر لوگوں کی نگرانی کیوں کر رہے ہوتے ہیں؟؟حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب اندھیراچھانے لگے یا رات ہونے لگے تو اپنے بچوں کو باہر جانے سے روک لوکیونکہ اس وقت شیاطین پھیل جاتے ہیں اور پھر جب عشاء کا وقت گزر جائے تو اُنہیں چھوڑ دو پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کر لو ۔

اب میں آپ کو اس فلم سے بہت ہیImportant Hint دینے لگا ہوں تیار ہیں؟ اس فلم میں فرشتوں کو سورج کے عین طلوع اور غروب ہوتے وقت جمع ہوتے دکھایا گیا ہے۔اور وہ سورج کی طرف رخ کر کے باجمات ہو کر مسور کن موسیقی سن رہے ہوتے ہیں ۔اور اس میوزک سے ان کو بہت سکون مل رہا ہوتا ہے۔ مستند احادیث کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سورج کے طلوع ہوتے وقت عبادت مت کرو جب تک یہ مکمل طلوع نہ ہو جائے۔اور غروب ہوتے وقت عبادت مت کرو جب تک یہ مکمل غروب نہ ہو جائے۔ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے تو احادیث کے مطابق طلوع اور غروب کے وقت یعنی Sunrise اورSunset کے وقت شیطان سورج کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ تاکہ سورج اس کے دو سینگوں کے درمیان آ جائے اور شیطان اس وقت عبادت کرنے والوں کا قبلہ بن جائے۔ تو سوال یہ اٹھتا ہےکہ اس فلم میں یہ فرشتے باجمات طلوع اور غروب کے وقت سورج کی طرف رخ کر کے کس سے سکون حاصل کر رہے ہوتے ہیں؟ یا دوسرے الفاظ میں کیا یہ شیطان کو اپنا قبلہ بنا کر عبادت کر رہے ہوتے ہیں؟

اگر یہ شیطان کو اپنا قبلہ بنا رہے ہیں تو یہ فرشتے تو ہرگز نہیں ہو سکتے کیا خیال ہے آپ کا؟ ویسے آپ کے خیال میں شیطان کی عبادت کون سی مخلوق کرتی ہے؟اچھا ایک بڑا انٹریسنگ فیکٹ میں آپ کو اس فلم کا بتاتا ہوں بلکہ ان ساری فلموں کا جو فالن اینجل پر بنی ہیں۔ اس میں ایک بڑی قابل غور اور نوٹ کرنے والی بات ہے کہ جب بھی فالن اینجل کو دکھایا جاتا ہے کہ وہ زمین کی طرف آ رہا ہے یا فلائی کر رہا ہے تو اس کو دُمد ار ستارے کی طرح یا شہاب ثاقب کی طرح آگ لگی ہوتی ہے۔ اور وہ بلکل ایک ٹوٹے ستارے کی طرح نیچے گر رہا ہوتا ہے۔اور قرآن پاک اس راز پر سے پردہ اٹھا رہا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ سبحانہ وتعالی فرما رہے ہیں کہ جو یہ شیطان ہوتے ہیں۔ یا جن ہوتے ہیں یہ آسمان کی طرف باتیں سننےکے لیے آتے ہیں جو محافظ فرشتے ہوتے ہیںوہ شہاب ثاقب سے اُن کو مار دیتے ہیں یا جلا دیتے ہیں۔ تو یہ جو دُمدار ستارہ بن کے نیچے گر رہا ہے۔ یا جو شہاب ثاقب کی طرح So called فالن اینجل نیچے گر رہا ہے وہ اپنی موت مر کے نیچے گر رہا ہے۔اور اُس کو سزا ملی ہے کہ وہ آسمان پر گیا تھا اور فرشتے نے اُس کو شہاب ثاقب مارا ہے۔ تو دقیانوسی لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ستارہ ٹوٹے تو اُس وقت جو دعا کرو گے قبول ہو گی جبکہ یہ دعا کا ٹائم نہیں ہے۔ بلکہ یہ استغفار کا ٹائم ہے۔ دوستو Book of Enoch اور اس کی تعلیمات پر مبنی ان فلموں میں مسلسل یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ فرشتے freewill رکھتے ہیں۔جبکہ صرف انسان اور جنات کے پاسfreewill کی آپشن ہے۔ اور اسیfreedomکی وجہ سے ان دونوں کا حساب کتاب ہوگا ۔ دوستواگر فرشتوں کے پاس freewill یعنی اپنی مرضی کرنے کی صلاحیت ہوتی تو اُن کا بھی حساب کتاب ہوتا۔ اور اُن کو بھی جنت میں انعام کے طور پر بھیجا جاتا۔ یا پھر دوزخ میں سزا بھگتنے کیلئے بھیجا جاتا۔ قرآن پاک میں سورہ ھود آیت نمبر
119 میںاللہ سبحانہ وتعالی ارشاد فرماتے ہیں۔ بے شک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور انسانوں سے۔ اس آیت یا پورے قرآن پاک میں نافرمان فرشتوں کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ان تمام تر فیکٹس اور قرآن سے لی گئی آیات کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ آخر یہ فالن اینجلز ہیں کون ؟؟۔ فالن اینجلز کو free will دی گئی. جو کہ انسانوں اور جنات کے علاوہ کسی کو نہیں دی گئی۔ تو یہ جنات ہی ہیں جن کو free will ملی ہے۔ اور اسیfreewill کے تحت یہ اپنی مرضی بھی کرتے ہیں۔اور اللہ کے حکم سے بغاوت بھی کرتے ہیں۔ یہی خصوصیات جنات میں بھی پائی جاتی ہیں۔ لڑکیوں کی محبت میں گرفتار ہو جانا۔ اور ان پر عاشق ہو جانا اس میں شامل ہیں۔بس اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فالن اینجلز جنات کے علاوہ کوئی اور مخلوق نہیں۔ دوستوجنات اور شیاطین کو فرشتہ ثابت کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔؟اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں تو کمنٹ سیکشن میں جلدی سے پارٹ 2لکھ کر تحریرکو شیئر کر دیں۔

آرٹیکل کا اختتام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے