اسرائیل میں نئی حکومت کا قیام: سابق فوجی افسران نے بڑا اعلان کر دیا

تازہ ترین
28 دسمبر 2022 | 31 : 6 - شام

دنیا(کھوجی ٹی وی) اسرائیل میں مرکزی حکومت کے قیام کے سلسلے میں کئی بار انتخابات ہوچکے ہیں تاہم اب تک کوئی بھی حکومت قائم نہ ہوسکی لیکن اب سابق فوجی افسران نے بھی نئی حکومت ے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق اسرائیل میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک ہزار سے زائد سابق سینئر فوجی افسران کی جناب سے بتایا گیا ہے کہ آنے والی نئی حکومت اسرائیل کےمستقبل کے لئے خطرہ ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق ان سابق فوجی افسران میں اسرائیلی فضائیہ کے تقریباً 1200 سابق فوجی شامل ہیں جن میں ایک سابق اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف بھی شامل ہیں۔ ان سب نے مل کر کہا ہے کہ اعلیٰ قانونی حکام آنے والی نئی حکومت کے خلاف سخت اقدام کرے اور ان کے لاف سختی سے ایکشن لے کیونکہ یہ نئی حکومت ملکی سلامتی کے لئے مستقبل میں بڑا خطرہ ہوگی۔

 

میڈیا رپورتس کے مطابق ان سابق افسران کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف اور دیگر اعلیٰ حکام کو خط لکھا گیا ہے جو کہ نئی اسرائیلی حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے کچھ ہی روز پہلے اعلیٰ حکام کو ملا ہے۔ اس خط میں سابقہ سینئر افسران کا کہنا ہے کہ نئی حکومت ایک مخلوط حکومت ہے جو مذہبی اور انتہا پسند جماعتوں کے اتحاد کے بعد تشکیل پا رہی ہے۔ خط کے مطابق یہ نئی حکومت اسرائیل کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔

 

خط میں بتایا گیا ہے کہ ہم معاشرے کے تمام طبقوں اور سیاسی میدان سے آتے ہیں،۔ خط میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہم سب کے مابین ایک ہی چیز مشترک ہے کہ اس وقت اسرائیلی جمہوری ریاست خطرے میں ہے۔

 

خیال رہے کہ اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں نے گزشتہ انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔

آرٹیکل کا اختتام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے