عظیم آرٹسٹوں کی موجودگی کا احساس دلاتے فن پاروں کا مرکز: الحمراء آرٹ میوزیم!

خصوصی رپورٹس
21 ستمبر 2022 | 16 : 7 - شام

عظیم آرٹسٹوں کی موجودگی کا احساس دلاتے فن پاروں کا مرکز: الحمراء آرٹ میوزیم!

صبح صادق

ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء محمد رفیع اللہ نے اپنے پہلے دورہ الحمراء کلچرل کمپلیکس قذافی سٹیڈیم کے موقع پر الحمراء آرٹ میوزیم کو آرٹ سے محبت کرنے والوں کے لئے ہفتہ بھر کھلا رکھنے کی ہدایت کیں۔ انھوں نے اس موقع پر کہا کہ الحمراء آرٹ میوزیم اپنے خوبصورت محل وقوع میں گھیرا فن کی دنیا کا شہکار ہے،میوزیم میں آویزاں عظیم آرٹسٹوں کے کام کودیکھنے والوں کا دائرہ کار وسیع بنا رہے ہیں۔ محمد رفیع اللہ نے کہا کہ الحمراء آرٹ میوزیم کو سات روز تک کھلا رکھنے کا مقصد فنون لطیفہ سے محبت رکھنے والوں کو فن پارے دیکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ عوام اورالحمراء آرٹ میوزیم کے درمیان رابطے بڑھانے کے لئے بھرپور اقدام اٹھا رہے ہیں۔


فن پارے کسی بھی قوم کی اعلیٰ اقدارکے آئینہ دار ہوتے ہیں جس سے اس قوم کی ہزار ہاسالہ تہذیب و تمدن،ثقافت اور معاشرت بخوبی جھلکتی ہیں۔ پاکستان مصوری کے شعبے میں بڑے بڑے نام پیدا کرنے میں ایک زرخیز ترین خطہ رہا ہے۔ ہم اس حوالے سے اپنی خوش بختی پر فخر کرسکتے ہیں کہ قدرت نے ہمیں ایسے ایسے آرٹسٹوں سے نوازا جن کے بنائے ہوئے فن پارے دعوت نظارہ ہی نہیں، فکری غذا بھی دیتے ہیں اور ماضی سے ہمارے رشتے ناطے جوڑتے اور فخر سے ہمارا سربھی بلند کرتے نظرآتے ہیں۔ اگر ہماری نگاہیں ایسا مرکز تلاش کرنا چاہیں جہاں ہم اپنے آرٹ کا خزانہ موجود پائیں تو ہمیں الحمراء آرٹ میوزیم ہی وہ واحد جگہ ملے گی،جہاں ہمارے عالمی شہرت یافتہ 116 آرٹسٹوں کے 175 سے زائد فن پارے رکھے گئے ہیں۔ الحمراء آرٹ میوزیم اپنی نوعیت کی ایسی منفرد جگہ ہے جہاں موجود فن پاروں کے ذریعے ہم اپنے شاندار ماضی،حال کے اتار چڑھاؤ اور مستقبل کی پیشن گوئیوں کے ساتھ ساتھ اپنی اقدار،رسوم و رواج،سماجی ومعاشرتی رویوں کا حال جان سکتے ہیں۔ یعنی الحمراء آرٹ میوزیم ہماری نئی نسل کو اپنی عظمت رفتہ سے روشناس کرنے کے قابل قدار اورکامیاب کو ششیں کر رہا ہے۔

الحمراء کلچرل کمپلیکس،لاہور آرٹس کونسل الحمراء کا ایک ذیلی ادارہ ہے جہاں یہ الحمراء آرٹ میوزیم کی شاندار عمارت موجودہے۔ الحمراء کلچرل کمپلیکس میں 1996ء میں الحمراء پر مانیٹ آرٹ گیلری کا وجود عمل میں لایا گیا۔ 2017ء میں اس آرٹ گیلری کی تزوئین وآرائش کی گئی اور اسے الحمراء آرٹ میوزیم کا نیا نام دے دیا گیا۔ الحمراء آرٹ میوزیم پاکستان میں ایسا واحد میوزیم ہے جہاں پر صرف آرٹسٹوں کے بنائے ہوئے فن پارے ہی رکھے گئے ہیں ان مصوروں میں عبد الرحمن چغتائی، استاد اللہ بخش، صادقین، شاکرعلی، ایس صفدر، حنیف رامے، شمزا، احمد پرویز، کولن ڈیوڈ، اسلم کمال، جمی انجینئر، میری کترینا، کامل خان ممتاز، انا مولیکا احمد، سعید اختر، زبیدہ آغا، خالد اقبال جیسے عالمی شہرت یافتہ نام شامل ہیں۔

مختلف تعلیمی اداروں کے وفود الحمراء آرٹ میوزیم کا گاہے بگاہے دورہ کرتے رہتے ہیں۔ سٹوڈئٹس کو اس میوزیم میں رکھے گئے فن پاروں کی مدد سے اپنے آئیڈیل کے انتخاب میں آسانی ہو رہی ہے، وہ اپنے کام کو نئے نئے زاویے عطا کررہے ہیں، الحمراء آرٹ میوزیم کی بدولت فائن آرٹ کے طلبہ وطالبات کواپنے تھیسز کے موضوعات کے انتخاب میں بھی آسانی ہورہی ہے، الحمراء آرٹ میوزیم ہر خاص و عام کے لئے دفتری اوقات کار میں کھلا رہتا ہے، سکالرز، محقق، سیاح، طالب علم اور مورخ بھی اس میوزیم کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں، الحمراء آرٹ میوزیم اس حوالے سے بھی اپنے اندر ایک خاص دلچسپی کا پہلو سموئے ہوئے ہے کہ اس کی عمارت ایک منفرد طرز پر تعمیر کی گئی ہے لہذا شعبہ تعمیرات کے طالب علم اس میوزیم کی عمارت کا مطالعہ کرنے کیلئے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں، اس الحمراء آرٹ میوزیم کی عمارت میں فن پاروں اور دیکھنے والوں کے درمیان موثر ابلاغ میں سورج کی روشنی کو بھی عمل دخل حاصل ہے، یہ عنصر یہاں رکھے گئے کام کی افادیت میں اضافہ کا باعث ہے، روشنی کا داخلہ ایسے زاویوں سے عمارت کے اندرونی حصہ پر پڑتا ہے کہ اندر رکھے گئے شاہکار کی صحیح نوعیت کا اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے اور پینٹنگ کا اصل نظارہ متاثر نہیں ہونے پاتا۔

 

اس میوزیم کا کردار مصوری کے شعبے میں ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے، یہ میوزیم مصوری کی اقدار کی پرورش کررہا ہے، یہاں پر رکھے ہوئے فن پارے دیکھ کر ہمیں اپنے سیاسی،سماجی اور اخلاقی حالات کا بخوبی اندازہ ہو تاہے۔ ہمارے مصور نے اپنی پینٹنگ میں اپنے سماج کو ہمیشہ سنبھالا ہے، یعنی سوسائٹی کے سدھارنے میں ہمارے مصور نے ہمیشہ بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا ہے، ہمارا مصور سماج کی خدمت کا آرزو مند رہا ہے، اس شعبہ مصوری کی اہمیت کے پیش نظر الحمراء آرٹس کونسل کے دونوں کمپلیکس میں مصوری کی کلاسز کا باقاعدہ انعقاد ہورہاہے جہاں طلبہ و طالبات ماہر اساتذہ سے تربیت حاصل کررہے ہیں جن کے حوصلہ افزائی کیلئے گاہے بگاہے الحمراء آرٹ گیلری میں ان کے کام پر مبنی نمائشوں کاانعقاد بھی کروایا جاتاہے تاکہ ان کے کام میں مزید نکھار آئے۔ یہ میوزیم ہمارے مصوری کے شعبے میں اعلیٰ خدمات سرانجام دینے والوں مصوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا ذریعہ بھی ہے، جن کے کام کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے جسے بھرپور طریقے سے نبھایا جارہا ہے۔ اس میوزیم میں آویزاں جو مصوری کے شاہکار ہیں ان میں کئی ایک وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہو چکے تھے اور اپنی اصل شکل میں نہ رہے تھے جسے ان کی اصل شکل میں بحال کرنے کیلئے ماہرین کی خدمات حاصل کیں گئی اور 2016ء میں ڈنمارک سے ان ماہرین کی ٹیم کو پاکستان بلوایا گیا جنہوں نے اپنی اعلیٰ فراست سے ان فن پاروں کو ان کی اصل حالت میں بحال کیا۔ اگرہم ان فن پاروں کو آج بھی دیکھتیں تو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے ابھی تازہ تازہ یہ فن پارے تخلیق کئے گئے ہو۔

اس حوالے سے لاہورآرٹس کونسل کی انتظامیہ بلاشبہ داد کی مستحق ہے جن کی شب وروز اعلیٰ خدمات سے یہ بڑا کام عمل میں لایا گیا۔ پاکستانی مصوری کے استاد،انہوں نے ان ہیئتوں کو ملا کر زندگی کی نقش کشی کی جوان کے زمانے میں زیر موضوع رہے،پاکستانی مصور نے بھی اپنے اردگرد کے مسئلے کی نشان دہی کو اپنے کام میں جگہ دی ہے۔ جس طرح برقی طاقت اپنے اندر منفی اور مثبت قوتیں رکھتی ہے اور تضاد اور اتصال کا نتیجہ ایک شعلہ،ایک روشنی ہوتاہے، اسی طرح سے ہیئتیں اپنے اندر مختلف قوتوں کی حامل ہوتی ہیں اور وہ ایک باشعور فنکار کے ہاتھوں سطح تصویر پر بغل گیر ہونے کی منتظر رہتی ہیں یعنی حالات سے مصور کی سوچ کی مطابقت ہی اس کا کردار تعین کرتی ہے،مثلا اگرہم اپنے گرد وپیش نظر ڈالیں تو ہمیں ہر اس مسئلے پر مصور کے فن پارے ملیں گے جو ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ ہمارے مصور کا یہی کردار قابل تحسین ہے۔ پاکستان کی تاریخ پر اگرایک نظر ڈالیں تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ قوم روز اول ہی سے اتار چڑھاؤ دیکھتی چلی آرہی ہے مگر ان بد لتے ہوئے حالات کے باوجود یہاں پر ہونے والا تخلیقی عمل کبھی جمود کا شکار نہیں ہوا،خواہ وہ افسانہ ہو، ناول نگاری یا شاعری، اس جہد مسلسل میں مصوری کا عمل بھی پیش رہا ہے۔پاکستانی مصوروں نے ہمیشہ ہی سے نئے تجربات کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں کی۔ اسی رویے کے نتیجے میں ہمیں شاکر علی، ایس صفدر، صادقین، خالد اقبال، سلیمہ ہاشمی، سعیداختر، میاں اعجاز الحسن اور اقبال حسین جیسے قدر آور مصور دکھائی دیتے ہیں۔
ڈائریکٹر الحمراء ذوالفقار علی زلفی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ نامور مصور عبد الرحمن چغتائی،استاد اللہ بخش،صادقین شاکر علی،ایس صفد ر،حنیف رامے کا کام الحمراء آرٹ میوزیم کی زینت ہے، احمد پرویز، کولن ڈیوڈ، اسلم کمال، جمی انجینئر، میری کترینا، کامل خان، انا مولیکا، ذوالفقار علی زلفی و دیگر کا دیگر کا کام بھی میوزیم میں دیکھنے والوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

آرٹیکل کا اختتام
مزید خبریں
Nothing related was found

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے